مرد وزن کے اندرموجود قوت شہوانیہ کا صحیح استعمال اور نسل انسانی کی بقا وتر قی کے لئے اللہ تعالی نے بعد نکاح ہم بستری کو جائز قرار دیا،اور رسول اکرم ﷺنے اس کے مسائل وآداب سے اپنی امت کو آگا ہ فر مایا۔چنانچہ ان میں سے کچھ مندر جہ ذیل ہیں۔
ہم بستری سے پہلے دعا پڑھنا۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم ﷺنے ارشاد فر مایا کہ:اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے اوراس سے پہلے یہ دعا پڑ ھ لے۔ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّیْطَانَ مَارَزَقْتَنَا۔تو پھر اس صحبت سے جو بچہ پیدا ہوگا اسے شیطان نقصان نہ پہونچائے گا۔ [بخاری،حدیث:۱۴۱۔مسلم،حدیث: ۱۴۳۴]
[۲] مکمل کپڑا ہٹا نا اگر چہ جائز ہے مگر بہتر طر یقہ یہی ہے کہ بقدر ضرورت ہی کپڑا ہٹائے ،یا اوپر سے چادر وغیرہ ڈال لے بالکل ننگا نہ ہوں ۔حضرت عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا کہ:جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ جمع کرے تو پردہ کرے (یعنی اوپر سے چادر ڈال لے )اور بالکل گدھوں کی طرح ننگا نہ ہوجائے۔[ابن ماجہ،حدیث: ۱۹۲۱]
حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ﷺاگر کوئی آدمی بالکل تنہائی میں ہو تب؟آپ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:لوگوں سے زیادہ مستحق اللہ تعالی ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔[ابن ماجہ،حدیث: ۱۹۲۰]
پیچھے کے مقام میں جمع کرنا سخت ناجائز وحرام ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: بے شک اللہ تعالی اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو اپنی عورتوں کے پیچھے کے مقام میں جماع کرتے ہیں۔[ابن ماجہ، حدیث : ۱۹۲۳]
حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ:حضور ﷺنے تین مرتبہ یہ فر مایا کہ:بے شک اللہ حق بات کہنے سے حیاء نہیں فر ماتا۔ تم عورتوں کے پیچھے کے مقام میں جماع نہ کرو۔[ابن ماجہ،حدیث:۱۹۲۴]
ہاں اگر کوئی پیچھے کی طرف سے آگے کے مقام میں جماع کرتا ہے تو ایسا کر سکتا ہے۔چنا نچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:یہودی یہ کہا کرتے تھے کہ پیچھے کی طرف سے آگے کے مقام میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے بچہ بھینگا(یعنی ایک طرف دیکھنے والا )پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالی نے ان لوگوں کے رد میں یہ آیت کریمہ نازل فر مائی کہ:تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتی میں جس طر ح چا ہو آؤ۔(سورہ بقرہ،آیت:۲۲۳)۔(یعنی جو کھیتی کی جگہ ہے اس میں کسی طر ح سے بھی آنا جائز ہے،ہاں جو کھیتی کی جگہ ہی نہیں اس میں آنا سخت ناجائز و گناہ ہے)۔[ابن ماجہ ،حدیث:۱۹۲۵۔بخاری ،حدیث:۴۵۲۸۔مسلم،حدیث: ۱۴۳۵]
عورت کی اجازت سے عزل کرنا (یعنی منی کو باہر گرانا)درست ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فر مایا کہ:رسول اللہ ﷺنے آزاد عورتوں سے عزل کرنے کو منع فر مایا مگر اس کی اجازت سے۔ [ابن ماجہ،حدیث: ۱۹۲۸]
حیض یعنی ماہواری کی حالت میں جماع کرنا ،ناجائز و حرام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے’ اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پو چھتے ہیں ،آپ فر مادیجئے کہ وہ گندگی ہے تو حیض کی حالت میں تم اس سے الگ رہو ،اس کے ساتھ جماع نہ کرویہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں پھر جب پاک ہو جائیں تو تم اُس جگہ سے آؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔بے شک اللہ تعالی تو بہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند فر ماتا ہے۔(سورہ بقرہ ،آیت:۲۲۲)اور یہی حکم نفاس(بچہ پیدا ہونے کے بعد جو خون آئے اس)کا بھی ہے۔کیونکہ جس گندگی کی وجہ سے حالت حیض میں جماع کرنا حرام ہے وہی گندگی نفاس میں بھی ہے۔اس لئے نفاس کی حالت میں بھی جماع کرنا حرام ہے۔
کھانے کے آداب پینے کے آداب لباس سے متعلق احکام و آداب تیل،خوشبواور کنگھی کے مسائل وآداب گھر سے نکلنے اور داخل ہونے کا طریقہ انگوٹھی پہننے کے مسائل سونے چاندی کے زیورات کے احکام ومسائل لوہا،تانبا،پیتل اور دوسرے دھات کے زیورات کے احکام مہندی،کانچ کی چوڑیاں اور سندور وغیرہ کا شرعی حکم بھئوں کے بال بنوانے،گودنا گودوانے اور مصنوعی بال لگوانے کا مسئلہ سفید بالوں کو رنگنے کے مسائل حجامت بنوانے کے مسائل وآداب ناخن کاٹنے کے آداب ومسائل پاخانہ، پیشاب کرنے کے مسائل وآداب بیمار کی عیادت کے فضائل ومسائل بچوں کی پیدائش کے بعد کے کام جھا ڑ پھونک اور د عا تعو یذ کے مسائل چھینک اور جماہی کے مسائل وآداب پیر کے اندر کن باتوں کا ہونا ضروری ہے؟ سونے،بیٹھنے ا و ر چلنے کے مسائل وآداب دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے مسائل وآداب سلام کرنے کے مسائل مصافحہ،معانقہ اور بوسہ لینے کے مسائل ماں باپ یا بزرگوں کا ہاتھ پیر چومنا اور ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا مسئلہ ڈ ھول،تاشے،میوزک ا و ر گانے بجانے کا شرعی حکم سانپ،گرگٹ اور چیونٹی وغیرہ جانوروں کومارنے کے مسائل منت کی تعریف اور اس کے احکام ومسائل قسم کے احکام ومسائل اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کا بیان غصہ کرنے اور مارنے پیٹنے کے مسائل غیبت،چغلی،حسد اور جلن کے شر عی احکام موت سے متعلق احکام و مسائل